تاریخ مرصع میں نیازی قبیلہ کے متعلق شواہد

افضل خان خٹک، جو خوشحال خان خٹک کے پوتے اور اشرف خان ہجری کے بیٹے تھے، نے اپنی مشہور کتاب تاریخِ مرصع میں خٹکوں کی تاریخ کے ساتھ ساتھ آس پاس کے مختلف قبائل اور علاقوں کے بارے میں بھی متعدد اہم روایات محفوظ کی ہیں۔ نیازی قبائل کے حوالے سے بھی اس کتاب میں ایسے شواہد ملتے ہیں جو ان کی تاریخ اور لکی سے میانوالی و نمک کے پہاڑوں کی طرف نقل مکانی کے بارے میں رائج روایت پر نئے سوالات اٹھاتے ہیں۔
تاریخِ مرصع کے صفحہ 328 پر خوشحال خان خٹک کی جوانی کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ پشتون کون ؟ کتاب کے مصنف مشہور پشتون ادبی شخصیت پروفیسر پری شان خٹک اور خوشحال خان خٹک سے خوشحال بابا  کتاب کی مصنفہ محترمہ رفاقت جاوید صاحبہ کے مطابق یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب  خوشحال خان  کے والد شہباز خان خٹک حیات تھے اور خوشحال خان کا بیٹا اشرف خان تولد ہوچکا تھا ۔ واقعات کے تسلسل کو دیکھا جائے تو یہ واقعہ 1626ء میں جہانگیرہ کے قریب یوسفزئیوں اور خٹکوں کی لڑائی اور 1640ء میں شہباز خان خٹک کی مندڑوں کے ساتھ ہونے والی آخری لڑائی کے درمیان کا معلوم ہوتا ہے۔ 1640ء کی اس لڑائی میں شہباز خان شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں وفات پا گئے۔ اس لیے قرائن کی بنیاد پر خوشحال خان کی یہ کارروائی تقریباً 1635ء سے 1640ء کے درمیان کی معلوم ہوتی ہے۔

مقبرہ خوشحال خان خٹک

افضل خان لکھتے ہیں کہ خوشحال خان چوترہ سے عیسیٰ خیل کی طرف گئے اور وہاں عیسیٰ خیلوں پر تاخت کی۔ اس کے بعد وہ ایک نہایت دلچسپ روایت نقل کرتے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ لکی کی وہ زمین، جس پر اب مروت قابض ہیں، سرہنگوں کی ملکیت تھی اور خوشحال خان نے جو تاخت کی تھی وہ سرہنگوں پر کی تھی۔ اس تاخت میں اتنا مالِ غنیمت ہاتھ آیا کہ اس کا پنجم، یعنی پانچواں حصہ، تین ہزار روپے مقرر ہوا۔ یہ حصہ لشکر کے مال سے الگ کرکے شہباز خان کے پاس پہنچایا گیا اور اس کے بدلے میں شہباز خان نے علاقہ کا اجارہ تری و بولاق کو عطا کیا۔
اصل پشتو عبارت یوں ہے:
“تر څوترې ورغے په عيسي خېلو ئې تاخت و کړ. بعضې‌ هسې وائي چې زمکه د لکي چې اوس مروت پرې متصرف دے د سارنګو وه. دا تاخت ئې په سارنګو کړے وۀ. هومره مال ئې راوست چې درې زره روپۍ ئې د پنځک حساب جدا کړے. له اولسه ئې عليحده کړے. شهباز خان ته ئې راوستلے په اجاره کښې ئې د تري بولاق ورکړے….”

تاریخ مرصع کتاب

یہاں ایک اہم مسئلہ سامنے آتا ہے۔ تاریخِ مرصع میں عیسیٰ خیلوں پر تاخت اور سرہنگوں پر تاخت کی روایت ایک ہی سلسلے میں آگئی ہے۔ پروفیسر پریشان خٹک نے اپنی کتاب پشتون کون کے صفحات 358–359 پر اسی مقام کی مزید وضاحت کرتے ہوئے رائے دی ہے کہ افضل خان نے ممکنہ طور پر دو مختلف مقامات کے دو الگ واقعات کو ایک ساتھ بیان کردیا ہے۔ ان کے نزدیک عیسیٰ خیل اور سرہنگ الگ الگ مقامات پر آباد تھے اور ان پر الگ الگ حملے ہوئے تھے۔ ان کے بیان کے مطابق اس زمانے میں سرہنگ لکی کے علاقے میں آباد تھے۔ جبکہ عیسیٰ خیل موجودہ مقام پر جہاں آج بھی آباد ہیں ۔۔
یہاں حیاتِ افغانی کی روایت بھی قابلِ توجہ ہے۔ اس میں سرہنگوں کے سردار مدی سرہنگ کی دولت اور مال و اسباب کی فراوانی کا ذکر اسی نوعیت کے واقعے کے پس منظر میں آتا ہے۔ مدی سرہنگ کو مروتوں نے نیازیوں کے خلاف تھانیداروالہ کے قریب ہونے والی ایک فیصلہ کن لڑائی میں قتل کیا تھا۔ تاہم حیاتِ افغانی کے مصنف نے ان واقعات کا کوئی قطعی سال بیان نہیں کیا اور انہیں مغل بادشاہ اکبر کے عہد میں رکھا ہے۔
غالباً اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مصنف کو تاریخِ مرصع تک براہِ راست رسائی حاصل نہ تھی اور اس نے مقامی روایات اور زبانی روایت سے مواد حاصل کیا ہو۔ اکبر کا عہد 1556ء سے 1605ء تک پھیلا ہوا تھا، اس لیے کسی مخصوص سال کے بجائے پورے عہد کی طرف نسبت کرنا اس روایت میں زمانی ابہام کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

علاقہ چونترہ کا محل وقوع

بعد کے لکھاریوں نے بھی حیاتِ افغانی کی یہی روایت نقل کی، یہاں تک کہ انگریز دور کے بعض مصنفین اور بعد میں نیازی قبائل کی تاریخ پر کام کرنے والے مصنفین، جن میں اقبال خان نیازی بھی شامل ہیں، اسی روایت کو آگے بڑھاتے رہے۔ یوں ایک ایسا زمانی تعین جو ابتدا میں محض ایک روایتی بیان اور غیر یقینی اندازے کی حیثیت رکھتا تھا، بار بار نقل ہوتے ہوتے ایک مسلمہ تاریخی روایت بن گیا۔ نتیجتاً نیازیوں اور مروتوں کے اس واقعے کو بابر یا اکبر کے عہد سے جوڑنے کی بات عام ہوگئی، حالانکہ تاریخِ مرصع کا اپنا زمانی تسلسل اس سے مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخِ مرصع کی روایت کو دوبارہ اسی کے زمانی تسلسل میں دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اگر خوشحال خان خٹک کی جوانی کے اس واقعے، شہباز خان خٹک کی حیات اور 1640ء میں ان کی وفات، اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کو ایک ساتھ رکھا جائے تو ایک مختلف امکان سامنے آتا ہے۔
نیازیوں اور مروتوں کی آخری فیصلہ کن لڑائی شاید خوشحال خان خٹک کی اس تاخت کے کچھ عرصے بعد، یعنی سترھویں صدی کے وسط کے قریب ہوئی ہو۔ میری رائے میں یہ واقعہ تقریباً 1635ء سے 1640ء کے درمیانی زمانے میں خوشحال خان کی کارروائی کے بعد کے حالات سے جوڑا جاسکتا ہے، جبکہ سرہنگوں کا لکی سے حتمی انخلا غالباً 1640ء کے بعد اور 1660ء کے آس پاس ہوا ہوگا۔
اس قیاس کو افضل خان کی اپنی ایک اور روایت مزید دلچسپ بنا دیتی ہے۔ تاریخِ مرصع کے صفحہ 319 پر وہ بیان کرتے ہیں کہ دو خٹک شاخیں، میری خیل اور نصرتی، لوہانی، یعنی مروتوں، کے ساتھ مسلسل جنگوں میں مصروف رہیں اور ان کے علاوہ سرہنگ، موشانی اور عیسیٰ خیل بھی ان لڑائیوں میں شامل تھے۔ آخرکار میری خیل اور نصرتی خٹکوں نے سرہنگوں اور موشانیوں پر غلبہ حاصل کیا اور انہیں لکی سے نکال دیا۔ افضل خان کے مطابق وہ وہاں سے خوشاب کی طرف چلے گئے۔

مدی خان سرہنگ کی تخیلاتی تصویر

یہ روایت خاصی اہم ہے، کیونکہ اس میں سرہنگوں اور موشانیوں کے لکی سے نکلنے کی وجہ مروتوں کے بجائے خٹکوں کے ساتھ جنگ اور ان کے ہاتھوں بے دخل ہونا بیان ہوئی ہے۔ دوسری طرف حیاتِ افغانی کی روایت یہ بتاتی ہے کہ نیازی مروتوں کے ساتھ جنگوں کے نتیجے میں لکی سے نکلے اور دریائے سندھ عبور کرکے موجودہ میانوالی کے علاقے میں آگئے۔
ممکن ہے دونوں روایات دراصل ایک ہی طویل کشمکش کے مختلف مراحل کو بیان کرتی ہوں۔ آج بھی سرہنگ اور موشانی قبائل کی آبادیاں نصرتی اور میری خیل خٹکوں کے ساتھ مشترک سرحدی علاقوں میں موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب بنگی خیل خٹک بھی اسی جغرافیائی دائرے میں ہیں۔ اس لیے افضل خان کا “لکی سے نکالے جانے” کا بیان شاید مکمل جلاوطنی کے بجائے مسلسل قبائلی دباؤ اور علاقے پر قبضے کی طرف اشارہ کرتا ہو۔
اگر اس پورے جغرافیائی منظرنامے کو سامنے رکھا جائے تو جنوب کی طرف مروتوں کا دباؤ تھا، شمال کی طرف خٹک قبائل موجود تھے، جبکہ مغرب میں بھٹنی اور بنوچی قبائل آباد تھے اور بھٹنیوں کی طرف خشک، بے آب و گیاہ پہاڑی علاقے تھے۔ چنانچہ اس سمت جانے کے بجائے نیازیوں نے جنوب مشرق کی راہ اختیار کی۔ یہ وہ خطہ تھا جہاں وسیع اور زرخیز میدان، سرسبز چراگاہیں اور دریائی علاقے موجود تھے اور جہاں اس سے پہلے ہی نیازیوں کی دوسری شاخیں ایک مضبوط اور مستحکم حیثیت حاصل کرچکی تھیں۔ یہی عوامل شاید سرہنگوں اور موشانیوں کے لیے اس سمت ہجرت کا باعث بنے ہوں۔
سرہنگوں کے لکی سے نکل جانے کے بعد صورتِ حال نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ نیازیوں پر دباؤ ڈالنے والی دو بڑی قبائلی طاقتیں، یعنی خٹک اور مروت، اب خود ایک دوسرے کے مقابل آگئیں۔ یوں سرہنگ نیازیوں کے لکی سے نکل جانے کے بعد وہ کشمکش، جس میں دونوں قبائل کسی نہ کسی صورت نیازیوں کے مقابل تھے، ان کے درمیان باہمی تصادم میں بدل گئی۔ اس کے بعد خٹکوں اور مروتوں کے درمیان متعدد لڑائیاں ہوئیں، بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے اور یہ سلسلہ سکھ دور تک کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا، جس کا اختتام بالآخر برطانوی اقتدار کے قیام کے بعد ہوا۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ نیازیوں کی موجودگی صرف میانوالی تک محدود نہیں رہی۔ سرہنگ نیازیوں کے خوشاب تک پہنچنے کا ایک واضح ثبوت وہاں آباد گولی والی کے نیازی ہیں۔ اس سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ لکی سے نکلنے کے بعد نیازی قبائل کا پھیلاؤ ایک ہی سمت اور ایک ہی مرحلے میں نہیں ہوا بلکہ مختلف گروہوں نے مختلف اوقات میں نئے علاقوں میں سکونت اختیار کی۔

لکی سرہنگ اور چونترہ کا محل و قوع

اسی سلسلے میں 1694ء میں مرتب ہونے والی سوجان رائے کی خلاصۃ التواریخ بھی اہم ہے۔ اس میں سُنبل اور عیسیٰ خیل نیازیوں کے مکھڈ سے لے کر ڈیرہ جات تک آباد ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ قیاس بھی کیا جاسکتا ہے کہ سرہنگ اور موشانی نیازیوں نے بھی انہی علاقوں کا رخ کیا جہاں پہلے سے سُنبل اور عیسیٰ خیل نیازی آباد تھے۔
بعد کے حالات میں سُنبل نیازیوں کو اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں تباہ اور منتشر کردیا گیا۔ میرے خیال میں اسی صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرہنگوں نے سُنبلوں کے بعض علاقوں پر قبضہ کیا اور سُنبل جنوب کی طرف کندیاں اور پپلاں کی جانب چلے گئے۔ سُنبلوں کے زیرِ قبضہ وسیع علاقے، جو کبھی کوہاٹ سے بنوں، دھن کوٹ اور مکھڈ تک پھیلے ہوئے تھے، رفتہ رفتہ مختلف قبائل کے درمیان تقسیم ہوتے گئے۔ بعد میں پنیالہ کی طرف سے آنے والے بَلُچ پشتونوں نے بھی پپلاں کے بعض علاقوں میں سُنبلوں کی جگہ حاصل کی۔

مختلف پشتون قبائل کاموجودہ محل وقوع

نیازی قبائل کی مجموعی نقل مکانی کو دیکھیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں میانوالی نہیں پہنچے تھے۔ سب سے پہلے جمال کی اولاد میں سے عیسیٰ خیل، سُنبل، خان خیل نیازی اور دوسرے گروہ اس خطے میں آئے۔ خان خیل کا ایک حصہ ہندوستان کی طرف بھی گیا جہاں اس قبیلے کے بعض افراد نے نمایاں مقام حاصل کیا، جبکہ سُنبل اور عیسیٰ خیل بڑی حد تک اسی خطے میں آباد رہے۔ ان کی آمد کا زمانہ غالباً بہلول لودھی کے عہد، یعنی تقریباً 1460ء کے آس پاس، کا ہوسکتا ہے۔
اس کے بہت بعد، غالباً جہانگیر کے عہد کے آخری حصے یا شاہجہان کے ابتدائی عہد میں، موشانیوں اور سرہنگوں کا ایک گروہ بھی اس خطے میں آیا اور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے کے علاقوں میں آباد ہوا۔ یہ زمانہ تقریباً 1620ء کے آس پاس بنتا ہے۔ اس کے بعد سرہنگوں کی ایک دوسری بڑی ہجرت اس وقت ہوئی جب مروتوں کے ساتھ ان کی آخری فیصلہ کن لڑائیوں کا سلسلہ ختم ہوا۔ میرے خیال میں یہ دوسرا گروہ تقریباً 1660ء کے آس پاس لکی سے نکل کر دریائے سندھ پار کرتا ہوا نمک کے پہاڑوں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جا پہنچا۔

لکی ، میانوالی اور کرک کا 1839ء کا ایک نقشہ

مروتوں اور سرہنگوں کے درمیان اس شدید کشمکش کی ایک ممکنہ وجہ شاید لکی میں سرہنگوں کی چھوڑی ہوئی جائیدادیں بھی ہوسکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ سرہنگوں کے ایک گروہ کے لکی سے نکل جانے کے بعد باقی سرہنگوں نے ان متروکہ املاک پر مہیار اور مچن خیل نیازیوں کے دعووں کو تسلیم نہ کیا ہو۔ اس کے نتیجے میں مچن خیل اور مہیار نیازی مروتوں کے اتحادی بن گئے ہوں۔ شاید انہوں نے نہ صرف مروتوں کو اپنے ساتھ ملایا بلکہ سرہنگوں کے مبینہ مظالم کی شکایات بھٹنیوں تک بھی پہنچائیں، جس کے نتیجے میں بھٹنی بھی سرہنگوں کے خلاف ہونے والی فیصلہ کن لڑائیوں میں شامل ہوگئے ہوں۔ تاہم یہ ایک قیاس ہے اور اس کے لیے مزید مستقل شواہد درکار ہیں۔
بہرحال تاریخِ مرصع کی یہ روایات نیازیوں کی ہجرت کو ایک ہی جنگ یا ایک ہی واقعے کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے ایک طویل قبائلی عمل کے طور پر دیکھنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ لکی، عیسیٰ خیل، میانوالی، خوشاب اور نمک کے پہاڑوں تک نیازی قبائل کی نقل مکانی کے پیچھے مختلف ادوار میں مروتوں، خٹکوں، وزیروں اور خود نیازی قبائل کی مختلف شاخوں کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات، اتحاد اور دشمنیاں کارفرما ہوسکتی ہیں۔
اسی لیے تاریخِ مرصع، حیاتِ افغانی، خلاصۃ التواریخ اور قبائلی روایات کو ایک ساتھ پڑھنے سے جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ روایتی ایک سطری تاریخ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ممکن ہے نیازیوں کی لکی سے میانوالی، خوشاب اور نمک کے پہاڑوں تک پہنچنے کی تاریخ دراصل کئی نسلوں اور کئی مختلف واقعات پر مشتمل ایک طویل ہجرت ہو، جسے بعد کے مصنفین نے مختلف روایات کو یکجا کرتے ہوئے ایک ہی واقعے کی صورت میں بیان کردیا۔
ماخذ و مراجع:
1. افضل خان خٹک، تاریخِ مرصع — صفحات 319، 328۔
2. پروفیسر پریشان خٹک، پشتون کون — صفحات 358–359۔
3. حیاتِ افغانی — سرہنگ نیازیوں، مدی سرہنگ اور مروتوں کے ساتھ کشمکش سے متعلق روایات۔
4. سوجان رائے، خلاصۃ التواریخ — 1694ء؛ سُنبل اور عیسیٰ خیل نیازیوں کی مکھڈ سے ڈیرہ جات تک آبادکاری کا بیان۔
5. سرفراز خان عقاب خٹک، تاریخِ خٹک — نیازیوں اور مروتوں کے واقعات کی بعد کی روایات۔
6. اقبال خان نیازی — نیازی قبائل کتاب ، نیازیوں کی تاریخ سے متعلق بعد کی تحریری روایات۔

7۔ رفاقت جاوید– خوشحال خان خٹک سے خوشحال بابا

تحریر و تحقیق: نیازی پٹھان قبیلہ فیس بک پیج ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں