جنگ قانونی ہو یا عسکری، جنگ بہرحال جنگ ہوتی ہے۔ اور ہر جنگ کے لیے افرادی قوت، مالی وسائل، حوصلے اور سب سے بڑھ کر امید درکار ہوتی ہے۔ جب امید ہی دم توڑ جائے تو انسان کے لیے درست راستے پر قائم رہنا بھی ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے۔
کہنے کو تو یہ اسلامی، جمہوری، فلاحی مملکتِ خداداد پاکستان ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی کے بجائے اکثر طاقتور کی حکمرانی کا تاثر غالب دکھائی دیتا ہے۔
کچھ وظیفہ خور حضرات فرما رہے ہیں کہ بلاشبہ مسکین اللہ خان اور نسیم اللہ خان پیشہ ور ڈاکو، قاتل یا سماج دشمن عناصر نہیں تھے، لیکن انہیں قانونی جنگ لڑنی چاہیے تھی۔

ان صاحبان سے عرض ہے کہ قانونی جنگ لڑنے کا مشورہ دینا بہت آسان ہے، مگر ذرا ان لوگوں سے پوچھیے جن کی زندگیوں کا قیمتی سرمایہ عدالتوں، کچہریوں، تھانوں اور تاریخ پر تاریخ کی نذر ہو جاتا ہے۔ جن کے پاس نہ دولت ہوتی ہے، نہ سفارش اور نہ ہی برسوں مقدمہ لڑنے کے وسائل۔ ان کے لیے قانونی جنگ محض ایک راستہ نہیں، بعض اوقات ایک طویل اور صبر آزما عذاب بن جاتی ہے۔
قانونی جنگ کا ذکر آیا تو بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیا۔
ہماری ایک بکری چوری ہوگئی۔ اسکول میں پڑھا تھا کہ ہمارے پیارے وطن میں ایسے ادارے اور عدالتی نظام موجود ہیں جو شہریوں کے جان و مال کے محافظ ہیں۔ اسی معصوم یقین کے ساتھ اپنے دادا سے ضد کی کہ تھانے چلتے ہیں، رپورٹ درج کرواتے ہیں؛ پولیس ہماری بکری ضرور تلاش کرکے دے گی۔
دادا بار بار سمجھاتے رہے کہ بیٹا! کوئی فائدہ نہیں، اللہ کی مرضی سمجھ کر بھول جاؤ۔ مگر مجھے اپنے اداروں پر بڑا ناز تھا۔ بالآخر دادا کو ساتھ لے کر تھانے پہنچ گیا۔
محرر صاحب کو سارا واقعہ سنایا تو انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ درخواست لکھنے کے لیے کاغذ اور قلم خرید کر لے آئیں، کیونکہ تھانے میں یہ چیزیں موجود نہیں ہیں۔
دادا نے شکریہ ادا کیا اور وہاں سے رخصت ہوگئے۔ واپسی پر انہوں نے ایک ایسی بات کہی جو آج تک ذہن میں نقش ہے:
’’بیٹا! کتابوں میں لکھی خوش نما باتوں کے فریب سے نکلو، یہ پاکستان ہے۔ یہاں نظام اکثر کمزور کی داد رسی سے زیادہ طاقتور کے تحفظ کے لیے متحرک دکھائی دیتا ہے۔‘‘
اس وقت شاید میں ان کی بات پوری طرح نہ سمجھ سکا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس جملے کی تلخی اور معنویت بڑھتی چلی گئی۔
اس واقعے کے بعد زندگی میں جب بھی کسی تنازعے کا سامنا ہوا، حتی الامکان کوشش کی کہ باہمی گفت و شنید سے مسئلہ حل ہوجائے۔ جہاں معاملہ تصادم کی طرف بڑھتا محسوس ہوا، وہاں اپنے حق سے دست بردار ہونا بہتر سمجھا، اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو انصاف ہوگا اور ظلم کا حساب بھی لیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ہمیشہ اس خوف کے زیرِ اثر نہیں تھا کہ میں غلط ہوں، بلکہ اس اندیشے کے تحت بھی تھا کہ کہیں اپنے حق کے حصول کی کوشش میں مزید ذلت، مالی نقصان اور ذہنی اذیت کا شکار نہ ہوجاؤں۔
یہ کیسی ریاستی و عدالتی صورتِ حال ہے کہ ایک شہری اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے سے پہلے یہ حساب لگانے پر مجبور ہو کہ انصاف کی تلاش میں اس کی کتنی عمر، کتنی جمع پونجی اور کتنی عزت داؤ پر لگ جائے گی؟
قانون و انصاف کمیشن پاکستان کے حوالے سے زیرِ التوا مقدمات کی تعداد لاکھوں میں بیان کی جاتی ہے۔ اگر واقعی تقریباً بائیس لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں تو یہ محض ایک عدد نہیں، انصاف کے منتظر لاکھوں شہریوں اور خاندانوں کی داستان ہے۔ اس کے علاوہ ان تنازعات کا تصور کیجیے جو تھانوں تک نہیں پہنچتے، وہ شکایات جو درج نہیں ہوتیں اور وہ مظلوم جو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کی ہمت ہی نہیں کر پاتے۔
ہر ناانصافی مقدمے کی صورت میں عدالت تک نہیں پہنچتی، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ ناانصافی ختم ہوگئی۔ بہت سے لوگ قانونی کارروائی کے اخراجات، وقت، اثر و رسوخ رکھنے والے فریق کے خوف اور طویل عدالتی عمل کے باعث خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔
میرا گلہ کسی ایک ادارے یا کسی مخصوص فرد سے نہیں، بلکہ اس پورے سماجی اور انتظامی رویے سے ہے جس میں کمزور کی فریاد اکثر طاقتور کے مفاد کے سامنے بے وزن ہوجاتی ہے۔
مسکین اللہ خان ہو، میرا گندے والا ہو یا بربری، ان سب کی داستانوں میں ایک مشترک سوال دکھائی دیتا ہے: کیا عام شہری کو اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے، قانونی راستہ اختیار کرنے اور باعزت زندگی گزارنے کا حقیقی موقع میسر ہے؟
مسکین اللہ خان کے آخری ویڈیو بیان میں بیان کردہ مایوسی کو بھی اسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی شخص کے تمام مؤقف سے اتفاق کیے بغیر بھی یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ وہ کن حالات، شکایات اور محرومیوں سے گزر کر اس مقام تک پہنچا۔ کسی المیے کے اسباب پر غور کرنا جرم کی توجیہہ کرنا نہیں ہوتا؛ یہ مستقبل میں ایسے المیوں کو روکنے کی بنیادی شرط ہے۔
مسکین اللہ خان، شیرباز خان اور ان کے دیگر ساتھیوں نے تحریک داؤد خیل کے ایک جمہوری پلیٹ فارم سے اپنی آواز بلند کی اور قانونی راستے سے مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔ وہ نوجوان تھے، ان کا تجربہ محدود ہوسکتا تھا اور ان کے فیصلوں میں کمزوریاں بھی رہی ہوں گی، لیکن سوال یہ ہے کہ ریاست نے ان کی شکایات کو کتنی سنجیدگی سے سنا؟ متعلقہ اداروں نے سرمایہ دارانہ مفادات اور مقامی اثر و رسوخ کے مقابلے میں قانون کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے کیا مؤثر اقدامات کیے؟
اگر بروقت شکایات سنی جاتیں، قانون شکنی کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوتیں، ماحولیاتی و سماجی مسائل کا ازالہ کیا جاتا اور متعلقہ فریقوں کو قانون کے تابع رکھا جاتا تو شاید حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔
کاش ریاست نے بروقت مداخلت کی ہوتی۔ کاش نوجوانوں کے گلے شکوے سن لیے جاتے۔ کاش انہیں یہ یقین دلایا جاتا کہ ان کے حقوق کا تحفظ کسی کی دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی حیثیت کا محتاج نہیں۔ شاید پھر وہ اندوہناک سانحہ رونما نہ ہوتا، دو جوان سال بیٹے یوں موت کی وادی میں نہ اترتے، بچے یتیم نہ ہوتے اور دو خاندان اس تباہی سے دوچار نہ ہوتے۔
آج ان بچوں سے ریاست کس اعتماد کی توقع رکھتی ہے؟ کیا وہ بڑے ہوکر اس تصور پر یقین کریں گے کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے؟ ریاست یہ اعتماد محض نعروں، تقریروں اور خوب صورت جملوں سے واپس نہیں لاسکتی۔ اسے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور شہریوں کی جان، عزت اور حقوق کی حفاظت اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
یہ صرف ایک ضلع اور ایک گاؤں کی کہانی نہیں۔ ایسے واقعات ملک کے مختلف حصوں میں مختلف صورتوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ریاست سے بداعتمادی، تشدد اور عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے مسائل بھی اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جب شہریوں کا اعتماد کمزور پڑتا ہے تو اس کے نتائج محض سیاسی نہیں رہتے؛ وہ معاشرتی امن، قومی یکجہتی اور انسانی زندگیوں تک کو متاثر کرتے ہیں۔
کہیں مزاحمت کاروں کی لاشیں گرتی ہیں، کہیں ریاستی اہلکاروں کے جنازے اٹھتے ہیں، اور کہیں عام شہری ان دونوں کے درمیان پس کر رہ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سانحے کے بعد صرف مذمت، تعزیت اور چند رسمی بیانات پر اکتفا کرتے رہیں گے، یا ان بنیادی وجوہات کا بھی جائزہ لیں گے جو لوگوں کو مایوسی اور تصادم کی طرف دھکیلتی ہیں؟
اصل مسئلہ فیکٹریاں یا صنعتیں نہیں، قانون سے بالاتر ہونے کا رویہ ہے۔
صنعتیں روزگار دیتی ہیں، معاشی مواقع پیدا کرتی ہیں اور علاقے کی ترقی میں کردار ادا کرتی ہیں۔ کسی بھی علاقے کو صنعتی ترقی سے محروم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ لیکن منافع کی ہوس میں ماحولیاتی آلودگی پھیلانا، قدرتی نظام کو تباہ کرنا، لوگوں کے حقوق پامال کرنا یا زمینوں پر ناجائز قبضے کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
سرمایہ کاری اور روزگار کے نام پر قانون شکنی کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سرمایہ دار کو بھی وہی قانون پابند کرتا ہے جو ایک عام شہری پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی صنعت یا ادارے کی سرگرمیوں سے ماحول، مقامی آبادی یا شہریوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ غیر جانب دارانہ تحقیقات کرے، قانون کے مطابق کارروائی کرے اور متاثرین کو مؤثر داد رسی فراہم کرے۔
معاشرے کو بھی خوابِ خرگوش سے بیدار ہونا ہوگا۔ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا، مظلوم کا ساتھ دینا، قانونی اداروں کی اصلاح کا مطالبہ کرنا اور ریاست کو اس کی آئینی ذمہ داریاں یاد دلانا ہر باشعور شہری کا حق بھی ہے اور سماجی ذمہ داری بھی۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا مطلب تشدد کی حمایت نہیں، اور کسی جرم کی مذمت کرنے کا مطلب اس کے پس منظر میں موجود ناانصافیوں سے آنکھیں بند کرلینا بھی نہیں۔ ایک مہذب معاشرہ دونوں باتیں بیک وقت سمجھتا ہے: قانون ہاتھ میں لینا قابلِ قبول نہیں، لیکن قانون کو بے اثر بنادینا بھی ناقابلِ قبول ہے۔
ورنہ خطرہ یہی ہے کہ کل کوئی اور مسکین اللہ پیدا ہوگا، کوئی اور خاندان اجڑے گا، کوئی اور ماں اپنے جوان بیٹوں کی لاشوں پر بین کرے گی، لوگ جنازوں پر پھول رکھیں گے، اداروں پر غصہ نکالیں گے، اور پھر کچھ عرصے بعد سب کچھ معمول کے مطابق چلنے لگے گا۔
مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہر سانحے کے بعد اٹھنے والے یہ سوالات آخر کب تک جواب کے منتظر رہیں گے؟
ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف میں تاخیر، شکایات سے مسلسل چشم پوشی اور طاقتور کے لیے مبینہ رعایتیں صرف شہریوں کو نقصان نہیں پہنچاتیں، بلکہ ریاست پر ان کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہیں۔
قانونی جنگ کا مشورہ دینے والوں سے آخری سوال یہی ہے:
کیا ہم نے کبھی ان لوگوں کے لیے بھی آواز اٹھائی ہے جنہیں قانونی جنگ لڑنے کا حوصلہ تو دیا جاتا ہے، مگر اسے لڑنے کے لیے درکار وسائل، تحفظ اور بروقت انصاف فراہم نہیں کیا جاتا؟
کیونکہ جس معاشرے میں مظلوم کو انصاف کے حصول کے لیے اپنی عمر، اپنی جمع پونجی اور اپنی عزت داؤ پر لگانی پڑے، وہاں صرف مظلوم کو نصیحت کرنا کافی نہیں۔ وہاں نظامِ انصاف کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرکے اس کی اصلاح کا مطالبہ کرنا ضروری ہے۔
ورنہ تاریخ بار بار یہی سوال پوچھے گی کہ جب لوگوں نے قانونی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تو ریاست نے ان کے لیے دروازے کتنی دیر تک کھلے رکھے؟
ریاست کا اصل امتحان طاقتور کو مزید طاقتور بنانا نہیں، بلکہ کمزور کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ کمزور ہونے کے باوجود بے یار و مددگار نہیں۔









